ایودھیا26 نومبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ نے اتوار کو کہا کہ مندر تحریک میں شیوسینا کا کوئی کردار نہیں تھا موریہ نے کہا کہ اگر شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے رام للا کے درشن کرنے جا رہے ہیں تو کوئی دقت نہیں ہے، لیکن رام مندر کی تعمیر کے لحاظ سے وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں، اگر بالا صاحب ٹھاکرے زندہ ہوتے تو وہ ادھو کو ایسا کرنے سے ضرور روکتے۔ موریہ نے کہا کہ مندر تحریک میں شیوسینا کا گزشتہ میں بھی کوئی کردار نہیں تھا اور اس وقت ( دھرم سبھا میں) بھی نہیں ہے۔ اگرچہ وشو ہندو پریشد کو بال ٹھاکرے کا ہمیشہ حمایت حاصل رہی ہے ۔ موریہ نے کہا کہ بھگوان رام کے بھکتوں کو قربانی کے بارے میں اطلاع ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ فی الحال کون قربانی پیش کر سکتا ہے اور ماضی میں کس نے قربانی دی تھی ۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو کے اس بیان کی بھی تنقید کی، جس میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ دھرم سبھاکے لئے فوج تعینات کی جانی چاہئے۔ موریہ نے کہا کہ اکھلیش کا بیان ان کی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سوال پر کہ مسلمان دھرم سبھا کے متعلق ان کی رائے کیا ہیں ۔ موریہ نے کہا کہ کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اتر پردیش میں امن ہے۔ حکومت نے کافی سیکوریٹی انتظامات کئے ہیں، تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایودھیا میں خوبصورت رام مندر کی تعمیر کی حامی ہے۔ بی جے پی کے لئے یہ انتخابی ایشو کبھی نہیں رہا، بلکہ یہ آستھا کا موضوع ہے۔ موریہ نے واضح کیا کہ رام جنم بھومی پر کوئی قبر یا مسجد نہیں بننے دیا جائے گا۔ رام مندر کب تک بنے گا، اس سوال پر موریہ نے کہا کہ جب تک معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، نہ تو بی جے پی اور نہ ہی مندر تحریک سے منسلک کوئی تنظیم تاریخ بتا سکتا ہے۔ تاریخ بتانا بی جے پی یا حکومت کا کام نہیں ہے۔ یہ وی ایچ پی، رام جنم بھومی ٹرسٹ اور سادھو سنتوں کا کام ہے۔ بی جے پی اس تحریک کو اخلاقی حمایت دے گی۔ اس کے ساتھ ہی بلیا سے بی جے پی ممبر اسمبلی سریندر سنگھ نے بھی شیوسینا چیف ادھو ٹھاکرے کے ایودھیا دورے اور رام مندر کے مطالبے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ شیوسینا کس طرح رام مندر مسئلہ کو ہائی جیک کر سکتی ہے۔